8 دسمبر 2013 - 20:30
جینوا ٹو کانفرنس شام کے سیاسی عمل کا پہلا قدم

شام کے وزیر اطلاعات و نشریات نے جینوا ٹو کانفرنس کو شام کے سیاسی عمل کا پہلا قدم قراردیا ہے۔

ابنا: عرب پریس کے مطابق عمران الزعبی نے موریتانیا، فلسطین، یمن اور لبنان کی ٹریڈ یونینیوں اور ٹیچروں کے وفد سے ملاقات میں  کہا کہ جینوا ٹو کانفرنس شام میں سیاسی عمل کے آغاز کا سبب بن سکتی ہے لیکن شام کی حکومت اخوان المسلمین، قطر، امریکہ سعودی، عرب، ترکی اور صہیونی ریاست کے نمائندوں کو اقتدار سونپنے کےلئے جینوا نہیں جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دمشق کی حکومت اپنے قومی اقتدار اعلی اور اقدار کے بارے میں کوئي گفتگو نہیں کرے گي لیکن بحالی امن و استحکام، دہشتگردی کا مقابلہ، بیرونی دہشتگردوں کو نکال باہر کرنے نیز انتخابات کے بارے میں گفتگو کرے گي۔شام کے وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ عرب اور مغربی ممالک کو شام میں سرگرم عمل دہشتگردوں کی حمایت کرکے، کار بم دھماکے نیز شامی عوام کو آوارہ کرکے بھی اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہوئي ہے اور جنیوا کانفرنس میں مذاکرات کے ذریعے بھی انہیں کوئي ہدف حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ شام میں جاری جنگ کسی پارٹی یا حکومت کی جنگ نہیں ہے بلکہ شام کے قومی تشخّص، صہیونی ریاست کے خلاف مزاحمت اور فلسطین کے خلاف جنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام، عرب دنیا میں اپنے بنیادی کردار کی بناء پر صہیونی سازشوں کا مقابلہ کرتا رہے گا۔

.......

/169